Ticker

6/recent/ticker-posts

مولائی

 مولائی -- ظفرجی





گاؤں کی آخری شام کا لطف لینے کو گلیاں ناپتا تھا کہ شاہ صاحب نظر آ گئے- ایک ویران احاطے میں اینٹوں کا ڈھیر لگا تھا اور آپ وہاں ہمارے کزن کے ساتھ کھڑے باتیں کرتے تھے-


میں کئی روز سے شاہ صاحب کی تلاش میں تھا- ان کی ایک امانت میرے پاس پڑی تھی- سوچا رکوں دعا سلام کروں اور اس بابت بتاتا چلوں- پھر نجانے کیا جی میں آئی کہ موٹر سیکل بڑھا دی-


کچھ دور جا کر پھر خیال ہوا کہ مل لینا چاہیے- شاہ صاحب ، قبلہ گاہی (مرحوم) کے دوست تھے- یہ سوچ کر واپس پلٹا- احاطے میں جا کر دیکھا تو شاہ صاحب شریں کے پیڑ کے نیچے کھڑے دعا کرتے تھے اور وہ کزن بھی ہاتھ اٹھائے کھڑا تھا-


معاملہ سمجھ میں آ گیا- ماموں زاد ہمارے نیا گھر بنانے چلے ہیں- شاہ صاحب شاید سنگِ بنیاد رکھنے آئے تھے اور اب دعا فرماتے تھے- شکر اللہ کا ادا کیا کہ بروقت پہنچا ہوں- برادری کی غم و خوشی میں شریک رہنا بڑی خیر والی بات ہے-


شاہ صاحب مولائی ہیں- انہوں نے کچھ قرانی آیات تلاوت فرمائیں ، پھر درود شریف پڑھا اور اس کے بعد نادِ علی پڑھنے لگے- یا علی مشکل کشاء کے بعد ادرکنی ادرکنی ادرکنی کی تکرار کی اور ہم "اللہ مشکل کشا" کا تصور کر کے آمین آمین آمین کہتے رہے-


"مولائی" شیعہ مذہب سے قریب ترین آخری سنّی جماعت ہے- بس یوں سمجھیے کہ مروجہ بریلویت اور شیعت کے بیچوں بیچ کھڑی ہے- وادیِ سون کی اعوان برادری اور علویوں کا صدیوں سے یہی مذہب رہا ہے- ہمارے پرکھوں کا بھی یہی مذہب تھا اور جو حیات ہیں ، اب بھی مولائی ہیں- تبلیغی جماعت کی مسلسل محنت کے بعد وادی میں قدرے تبدیلی آئی ہے- ہم چاروں بھائی بھی تبلیغی جماعت کی بدولت مدت ہوئی اپنا مذہب بدل چکے ہیں-


مولائی بارہ اماموں کو مانتے ہیں اور حضرت علی رض کی ولایت پہ یقین رکھتے ہیں- مانتے تو خیر ہم بھی ہیں- کوئی کافر ہی ہو گا جو بنوہاشم کی امامت اور حضرت علی رض کی ولایت کا انکار کرے گا- ہاں "ڈیفینیشن" میں تھوڑا اختلاف ہے- دراصل ولی اور امام کی جو تعریف مولائی کرتے ہیں ، ہم وہابی اس سے برات کا اظہار کرتے ہیں- جو اتھارٹی ان مراتب کو انہوں نے دے رکھی ہے ، ہمارے عقیدے میں صرف اللہ واحدہ لاشریک کے شایانِ شان ہے-


غرض کہ جو وہ سمجھتے ہیں وہ ہم نہیں مانتے اور جو ہم مانتے ہیں ان کی سمجھ سے بالاتر ہے- ہم ان سے بحث نہیں کرتے ، نہ ہی کافر کہتے ہیں- ان کے ساتھ ہاتھ ملا بھی لیتے ہیں اور اٹھا بھی لیتے ہیں، مگر اللہ کے سوا سب اتھارٹیز کا انکار کر کے اٹھاتے ہیں- ہماری زبان سے ادرکنی کی صدا صرف اللہ عزوجل کےلیے نکلتی ہے ، جبکہ وہ ولیوں اور اماموں کی "پاور آف اٹارنی" پہ یقین رکھتے ہیں جو بقول ان کے ، خدا نے انہیں ٹرانسفر کر رکھی ہے-


دُعا کے بعد شاہ صاحب سے ہاتھ ملایا اور کہا ، آپ کی ایک امانت میرے پاس کراچی میں پڑی ہے- میر امن دہلوی کی "قصّہ باغ و بہار"-ایک دوست کے ذریعے یہ کتاب ہم تک پہنچی ہے- ہم اس کی طرز پہ قصّہ حاتم طائی جدید لکھ چکے ہیں جو عنقریب شائع ہونے والی ہے- ان شاءاللہ دونوں کتب بہت جلد آپ کو مل جاویں گی-


یہ سن کر وہ بہت خوش ہوئے اور دعا دی-


اسی دوران ماموں زاد ہمارے جلیبی کا تھیلہ لیے حاضر ہوئے- مونہہ میٹھا کر چکنے کے بعد ہم نے شاہ صاحب کے ہاتھ دھلوائے اور نہایت ادب سے رخصت کیا- یوں آخری شام ایک مولائی کے ساتھ گزار کر ایک بار پھر ہم عازمِ سفرِ کراچی ہیں- خیر و برکت کی دعا کیجیے گا- 

Post a Comment

0 Comments