Ticker

6/recent/ticker-posts

موت کی لکیر

موت کی لکیر -- ظفرجی





اس کا حلیہ فقیروں والا تھا- وہ مجھے ہوٹل کے ریسپشن ہال میں نظر آیا- بعد میں معلوم ہوا کہ وہ یہاں مقامی تھیٹر میں چوکیدار ہے-


اس کی باتیں بہت گہری تھیں- کچھ سمجھ آتیں ، کچھ سر سے گزر جاتیں- میں ایک اچھے سامع کی طرح اسے نصف گھنٹے سے سن رہا تھا- میرے نزدیک کسی سنکی بوڑھے کی باتیں صبر سے سن لینا بھی ایک صدقہ ہے-


بالاخر اس نے میرا ہاتھ تھام لیا اور قسمت کی لکیریں دیکھنے لگا- میں خاموش رہا کہ چلو اس بہانے وہ کچھ دیر خاموش تو ہوا- زندگی کی لکیر ، کامیابی کی لکیر ، دولت کی لکیر سب میرے لئے بے مقصد تھیں-


زندگی ایک بار ملی ، پردیس میں کٹ گئی ، کامیابیاں جتنی سمیٹیں دعوتوں کی نظر ہو گئیں ، دولت جتنی کمائی مکان بنانے پہ خرچ ہو گئ- ہاں کوئی موت کی لکیر ہوتی تو ضرور پوچھا جا سکتا تھا کہ کب روانگی ہے ؟


آخرکار اس نے میرے ہاتھ کی مٹھی بند کرتے ہوئے ہتھیلی کی پشت دیکھنا چاہی- میں چونک کر ہاتھ چھڑانے لگا کیونکہ میں جانتا ہوں دست شناس ہتھیلی کے نصف پچھواڑے میں کیا دیکھتے ہیں-


شادی سے 20 برس پہلے بھی ایک دست شناس نے اس طرف جھانک کر کہا تھا " تمہاری دو بیویاں ہونگی" اس وقت میں بہت خوش ہوا تھا- شادی کے 20 برس بعد یہ جملہ سننےکا میں روئیداد نہ تھا کہ مجھے دو دفعہ موت آئے گی-


"بس کریں حضرت ، مجھے کہیں جانا ہے" یہ کہتے ہوئے میں نے ہاتھ چھڑا لیا-


وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا " تمہارے دو نکاح ہیں ؟ "

میں نے اٹھتے ہوئے کہا نہیں ، میں ایک پر ہی راضی ہوں-


اس کے بعد میں وہاں سے یوں اٹھا جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے- ہوٹل کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کا آخری جملہ میرے کانوں سے ٹکرایا

" موت کی آخری ہچکی سے پہلے تیرا ایک نکاح مزید ہو گا اور ضرور ہوگا"


میں نے دل ہی دل میں استغفار پڑھی اور اپنے کمرے میں چلا آیا-


اس کے بعد ھوٹل کے دالان میں وہ فقیر کئی بار نظر آیا لیکن میں اس کے قریب بھی نہ پھٹکا اور ہمیشہ رستہ بدل کے نکل گیا- شاید اس لیے کہ اس بزرگ نے میرے ہاتھ پہ موت کی لکیر دریافت کر لی تھی- 

Post a Comment

0 Comments