Ticker

6/recent/ticker-posts

بُری گھڑی

 بُری گھڑی --- ظفرجی





کراچی کا صدر بازار گھومتے ہوئے ایک روز ہمیں سیاہ ڈائل کی ایک گھڑی پسند آ گئی، سوئیاں جس کی سنہری تھیں- گھڑی فروش نے ریٹ لگایا، تین سو روپے-


ھم نے کہا، غضب خدا کا، ابھی تو آپ ایک سو بیس ایک سو بیس کی گردان کر رہے تھے- شرفا کو دیکھتے ہی مال کا نرخ بڑھا لیتے ہو ؟


وہ بولا، ناں صاحب- باقی والی سب ایک سو بیس کی ہی ہیں- یہ خاص تائیوان کا پیس ہے- تین سو سے کم نئیں بیچتے- چلو آپ بھلے آدمی ہیں، 250 دے دیجیے-


ہم نے ایک شانِ بے نیازی سے کہا، بھائی کچھ بھی ہو- ہم تو 2 سو سے اوپر ایک آنہ نہ دیں گے- دیتے ہو تو خوب ورنہ چلتے ہیں-

یہ کہ کر ھم سچ مچ چل دیے- اس نے آواز لگائی، بھائی ذرا بات سننا- ہم نے مُڑ کے کہا، آخری بات- دو سو روپے بس-


یوں کئی بار ہم ناراض ہو کر چلے اور ہر بار اس نے صدا دے کر منا لیا-اس کی مسلسل پکار اور ہماری مسلسل تکرار کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ہم دو سو میں گھڑی دان ہو گئے-


اگلے روز ھم بال بکھرائے آستینیں چڑھائے دفتر پہنچے- مقصود تھا کہ زیب و زینت گھڑی کی عیاں ہو ، خیر اندیشوں کو اچھی گھڑی کی نوید ہو اور بدگمانوں کےلئے بری گھڑی ثابت ہو-


دو روز تک کسی نے نوٹس تک نہ لیا- آخر تیسرے دن ایک حاسد کی نظر پڑ ہی گئی- بولا، واہ بھیّا ! کیا بڑھیا واچ ماری ہے- کہاں سے لی؟ ذرا دکھاؤ تو-

یہ کہ کر وہ کوئلہ صِفت، خود ہی قریب ہوا اور کلائی ہماری ٹٹول کے بولا، چیز تو بڑھیا معلوم ہوتی ہے مگر سوئی اس کی شاید اندر گری پڑی ہے-


ھم نے جزبات پہ قابو رکھتے ہوئے اس جھٹکے کو برداشت کیا- پھر اس کی جاہلیت پر نفرین ہوئے کہا، بھیا، تائیوان کی گھڑیوں میں سیکنڈوں والی سوئی نہیں لگتی- کمپنی سائیڈ پہ رکھ چھوڑتی ہے کہ جب کسی کا جی چاہے لگا لے- اب چوبیس گھنٹے مُفت کی ٹک ٹک کون سُنے؟


وہ بولا، وقت بھی نصف گھنٹہ پیچھے ہے- لگتا ہے سیل کمزور ہے-

ہم نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے کہا ، بھیّا، دانش وروں کا وطیرہ ہے کہ قوم سے ایک قدم پیچھے ہی چلتے ہیں تاکہ قومی غلطیوں کو نوٹ کرتے رہیں-


خیر اس حاسد کی تشفّی نہ ہوئی اور مونہہ چلاتا ہوا چلا گیا، قدرے پریشانی ہمیں ہوئی کہ خریدتے وقت خیال کیوں نہ کیا- بس چیز دیکھی اور مر مٹے- گویا گھڑی نہ ہوئی کُڑی ہو گئی- اب گھڑی ساز مفت کے پیسے بٹورے گا- پھر خود کو اطمینان دلایا کہ خیر ہے ، موبائل سے وقت دیکھ لیا کریں گے اور سوئی بھی اندر ہی تو پڑی ہے- کسی بھی وقت لگوا لیں گے-


لیکن اس کی نوبت نہ آ سکی- اگلے ہی روز وہ گھڑی چین تُڑا کے گری اور تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئی- شیشہ الگ ، مشین الگ ، اور چین الگ- خدا کا شکر کہ کسی حاسد کی نظر نہ پڑی ورنہ مفت کی کہانی گھڑ لیتا-


ہم نے افراتفری میں کل مال اسباب سمیٹا اور رومال میں باندھ کمرے میں چلے آئے- گھڑی تو خدا خدا کر کے جُڑ گئی مگر سیکنڈوں والی سوئی اس ہنگام میں جانے کہاں کھو گئی- شاید موقع غنیمت جان کے فرار ہو گئی ہو- خیر ویسے اس کا کوئی خاص فائدہ بھی نہ تھا-


لیکن مسئلہ ہمارا یہیں ختم نہیں ہوا- اب آئے روز وہ گھڑی گرنے لگی- کبھی غسل خانے میں لباس اتارتے وقت گرے تو کبھی وضو خانے کے کُھرّے میں جا پڑے- کچھ ہی روز میں اس بات کا چرچا ہوا اور آس پڑوس ، دوست دشمن ، حاسد راشک سب جان گئے کہ اس بزرگ کی گھڑی گرتی ہے- بدخواہ ھم سے مصافحہ کی تاک میں رہیں کہ گھڑی گرے اور تماشا دیکھیں- خیر خواہ مشورہ دیں کہ صاحب قیمتی چیز ہے، جیب میں رکھا کیجیے- ٹوٹ گئی تو بڑا نقصان ہو گا-


ایک بزرجمہر اپنی قابلیت اور علمیت کی دھاک بٹھانے اور ہماری ”بے بضاعتی“ پہ صاد کرتے ہوئے بولے کہ صاحب پریشانی کاہے کی ؟ کوئی اچھا وکیل کیجئے اور کمپنی پہ ہرجانہ کیجیے- کوئی چھوٹا موٹا کیس تھوڑی ہے؟ آخر گھڑی گرتی ہے-


رفتہ رفتہ محلّے میں نکلنا دوبھر ہو گیا- ادھر قدم گلی میں رکھیں اور ادھر کوئی بچّہ سامنے آ کر انتہائی مسکین سی صورت بنا کر پوچھے،

انکل ٹائم کیا ہوا ہے ؟

اس طفلِ حاسد کے جزبات بھڑکانے کو ھم بھی ایک ہاتھ سے گھڑی کو تھام بڑی احتیاط سے کہیں، بیٹا وہی جو کل اس وقت ہوا تھا-


ایک روز تو حد ہی ہو گئی- کسی ضروری کام سے صدر بازار پھرتے تھے کہ ڈاک خانے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اچانک گھڑی گر گئی-

ہم اٹھانے کو جھُکے تو پیچھے سے آنے والا ایک مخبوط الحواس بری طرح ہم سے ٹکرا گیا- نتیجتاً ہم آگے کی طرف گرے اور وہ پہلوان فٹ پاتھ پہ بیٹھے فقیر کو لیتا ہوا ایک وثیقہ نویس پہ جا پڑا- ایک ہڑبونگ سی مچی اور دو چار بندے خواہ مخواہ آپس میں ٹکرا گئے-


دور پار کھڑے لوگ اس حادثے کی طرف متوجہ ہوئے- کچھ سمجھے کہ بلوہ ہوا ہے، کچھ ملنسار بھاگتے ہوئے آئے اور طبیعت ہماری پوچھی کہ شاید اختلاجِ قلب کا مسئلہ ہے- مسخروں کو شغل میّسر آیا- خوب تالیاں پیٹیں- ایک بولا وہ دیکھو انکل کلٹی ہو گئے- دوسرا بولا ، نہیں گھڑی چین تُڑا کے بھاگی ہے- تیسرے نے ہانک لگائی چاچا چوٹ تو نہیں آئی ، گھڑی کو ؟


ھم ان کم فہموں کی عقل پہ دل ہی دل میں ملامت کرتے گھڑی کے کل پرزے رومال میں سمیٹنے لگے- سوچا عامة الناس کی ہر بات کو سنجیدگی سے لیا جاوے تو مال کا حشر مرزا کی سائیکل جیسا ہوتا ہے جسے پطرس بخاری مرحوم نے نہر والے پُل سے نیچے گرا دیا تھا- بس چار دن کی تو بات ہے- تنخواہ ملتے ہی کسی اچھے گھڑی ساز کی تلاش کریں گے اور بنوا لیں گے-


آخر ایک روز وہ سعد گھڑی بھی آ گئی- ہم نے روپے پکڑے اور کسی گھڑی ساز کی تلاش میں نکلے- صدر میں اس روز بھی کھوّے سے کھوّا چھلتا تھا مگر اتفاق دیکھیے کہ ریگل چوک سے صدر دواخانہ تک گھڑی ساز کا نام و نشان تک نہ تھا- حالانکہ جن دنوں جیب خالی تھی، قدم قدم پہ گھڑیالی اونگھتے تھے-


جب خوب تھک ہار گئے تو لکی اسٹار چورنگی کی طرف چل دیے کہ شاید کوئی کاریگر مل جاوے- جماعت خانہ بوہری سے کچھ آگے فٹ پاتھ پہ نظر ایک پیر مرد پہ پڑی جو جملہ حرکات سے گھڑی ساز معلوم ہوتا تھا- قریب جا کر پُوچھا:

" حضرت آپ گھڑیاں ٹھیک کرتے ہیں؟ "


اس مردِ بینا نے شاید ہماری بات کا برا منا لیا- داہنی آنکھ سے کھوپا اتار کے ہمیں گھورا اور بولا، نہیں میں چمڑے کے سکّے بنا کر سبزی منڈی میں بیچتا ہوں- جب دیکھ رہے ہو تو پوچھتے کیوں ہو؟


ہم شرمندہ ہوئے اور جھٹ جیب سے گھڑی نکال، بڑی لاچارگی سے کہا:

" اسے درست کر دیجئے- وقت سے کوسوں پیچھے ہے ، سیکنڈوں والی سوئی غائب ہے ، بار بار رکتی ہے ، آئے روز گرتی ہے"


اس نے گھڑی ہمارے ہاتھ سے لیکر آنکھ پہ کھوپا چڑھایا اور تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے بولا، اس پر تو ٹھیک ٹھاک خرچہ آئے گا-

ھم نے چونکتے ہوئے پوچھا، پھر بھی ... آخر کتنا؟

بولا " تقریباً 60 روپے !! "


یہ سنتے ہی ہم ساتھ پڑے لکڑی کے ڈبّے پہ یوں ڈھیر ہوئے گویا برسوں کے مسافر ہوں- ہماری خامشی کو بھانپتے ہوئے وہ کاریگر بولا ، کیا کریں صاحب! مجبوری ہے- گاہک کو لاگت پہلے سے بتانا پڑتی ہے- آجکل لوگ 10 روپے کےلیے بھی چخ چخ کرتے ہیں-


ہم نے کہا، فکر نہ کیجیے- آئی ایم ایف سے نیا قرضہ ملنے والا ہے، پھر دیکھنا یہ موا دس کا نوٹ سڑکوں پہ دھکے کھاتا ہوا ملے گا-


یہ سن کر وہ بزرگ ہنس پڑا اور یوں ہم اچھےدوست بن گئے- اس کی عمر 70 سے کچھ اوپر تھی اور وہ 40 سال سے فٹ پاتھ پہ بیٹھا گھڑیاں درست کر رہا تھا- بچے جوان تھے اور اپنا اپنا کام کرتے تھے-

ہم نے پوچھا، بابا کبھی بچّوں نے بھی آپ کی خبر لی ہے؟

وہ ایک آہ بھر کے بولا، کاہے کو لیں گے صاحب؟ کبھی اچھی گھڑی والا بھی یہاں آیا ہے؟ سب بری گھڑی والے ہی آتے ہیں-


کوئی پندرہ منٹ بعد اس نے مژدہ سنایا کہ حاجی صاحب، یہ لیجیے آپ کی گھڑی بن چکی- ھم نے اچھی طرح الٹ پلٹ کر دیکھا- وہ واقعی درست چل رہی تھی- چین بھی بدل چکا تھا اور سرخ رنگ کی سیکنڈوں والی سوئی بھی بگٹٹ بھاگ رہی تھی-


ھم نے 100 کا نوٹ اس پیرانہ سال کی نذر کیا- کُھلے کےلئے پریشان ہوا تو ایک شانِ خسروانہ سے کہا، رکھ لیجئے- آپ جانتے نہیں کہ یہ کتنی قیمتی گھڑی ہے- یہ وقت ہی نہیں، زمانے کی اوقات بھی بتاتی ہے-


وہ گھڑی بڑی دیر تلک ہمارے پاس رہی اور بخوبی چلتی رہی- لیکن اسکے بعد نہ تو کسی نے اس کی بابت دریافت کیا نہ ہی کبھی وقت پوچھا- شاید اس لئے کہ وہ اب ٹھیک ہو چکی تھی اور لوگ صرف بری گھڑی پر نظر رکھتے ہیں-

Post a Comment

0 Comments