سرکاری گھر -- ظفرجی
آغازِ کار گھر کی گھنٹی سے کیا- اسٹور سے ایک پھول دار ہارڈبورڈ میّسر آیا- اسے کاٹ کر گھنٹی اس پہ سجائی- بٹن نیا خریدا اور اسی ہارڈبورڈ کے ایک ٹکڑے پہ نصب کر کے باہر لگا دیا-
مقصود تھا کہ دفتر سے گھر آتے ہی گھنٹی بجاؤں تو بجائے تھکاوٹ کے طمانیت کا احساس غالب رہے-
جالی دار دروازے کے پیچھے کنڈی نہیں تھی- پڑوس کے بچّے اس کے ساتھ جھولا جھولتے تھے جس کی وجہ سے جالی ٹوٹ پھوٹ رہی تھی- بازار سے نئی ارل خریدی، اس کے حجم کی لکڑی کاٹی اور نصب کر دی- جالی بھی نئی خرید کر لگا دی-
مرکزی در کی اندرونی چٹخنی بھی غائب تھی- ایک ارل خریدی اور لگا دی- باہر کی ارل کا سوراخ کچھ بڑا تھا- اچھا نہ لگتا تھا- اس کے اندر پلاسٹک کے پائپ کا ایک ٹکڑا ڈالا ، اور اطراف میں POP بھر دیا-
لاؤنج کے مرکزی لیمپ کا بٹن سال خوردہ اور گندا تھا، لیمپ کی بنیاد اکھڑی ہوئی تھی ، اور وہ چھت پہ جھول رہا تھا- بٹن بورڈ سمیت تبدیل کیا اور سیزنگ وائر سے بلب کی بنیاد مظبوط کر دی- فیز کی تاریں ، مین بورڈ سے نکل کر پائپ کے باہروں باہر برامدے تک جا رہی تھیں- اونچائی کی وجہ سے خود چڑھنا ممکن نہ تھا- الیکٹریشن کی مدد حاصل کی، اندر کروا دیں-
پردوں کی فٹنگ مناسب نہ تھی- جتنی بڑی کھڑکی، اتنی ہی بڑی فٹنگ لگی تھی- ہم نے اسے کھڑکی سے تین انچ اونچا کیا اور دونوں اطراف سے دو دو انچ باہر نکال کر لکڑی کی بیڈنگ پہ نصب کیا اور نئے گولڈن ڈنڈے لگائے- ڈنڈے کی دونوں اطراف جو کدّو لگتے ہیں وہ نہ خریدے کہ بقول شخصے اسراف ہے-
ڈرائنگ روم کی ٹیوب لائٹ گندی تھی اور تاریں پراگندہ- ٹیوب اتار کے صاف کی- اس پہ لٹکتی ہوئی فالتو تاریں کاٹ کے چھوٹی کیں اور ایک عمدہ فلیکسیبل پائپ سے گزار کر کنکشن کیا- پٹّی کی ہر دو جانب ماسکنگ ٹیپ لگا کر اسپرے پینٹ مارا تو گویا نئی ہو گئی-
برامدے میں جتنے کیل تھے ، نکال کر تمام کھڈّے POP سے بھر دیے- کھڑکی کے سامنے سال خوردہ ہارڈ بورڈ کی ایک ایکسٹینشن بنی ہوئی تھی جس پہ گتّے کے ڈبے میں قران پاک اور سپارے کپڑوں میں ملفوف رکھے تھے- نکال کر جھاڑ پھونک کی اور الماری میں سجا دیے- ہارڈ بورڈ کی ناجائز تجاویزات ہٹا دیں-
بازار سے لکڑی والی پالش خریدی- یوٹیوب ویڈیوز دیکھ کر خود تیار کی- تمام سرکاری فرنیچر پالش کر دیا- ادھڑی ہوئی کرسیاں بنوائی کےلیے بھیج دیں اور جو داڑھ کی طرح ہلتی جلتی تھیں ، کیلوں سے ٹھونک دیں-
بلب لگانے کو ڈائننگ ٹیبل پہ سوار ہوئے تو وہ کسی مست شرابی کی طرح جھومنے لگا- چھلانگ لگا کر اترے- جھٹ ٹیبل کو الٹایا- لکڑی کے اینگل بنائے اور چاروں ٹانگوں کے ساتھ ڈرل کر کے نصب کر دیے- اب جھول کر دکھائے- سنگھار میز کی درازوں کے گٹکے غائب تھے نئے خرید کر لگا دیے- 35 روپے فی گٹکا خرچ آیا-
کچن کے سامنے ایک جہازی سائز واش بیسن نصب تھا- خطرہ تھا کہ خاتونِ خانہ آتے جاتے اس برباد شدن سے ضرور ٹکرائیں گی- جوہر موڑ جا کر ایک ننھا منا کیوٹ سا شینک خریدا اور ہمراہ نئی ٹونٹی کے نصب کر دیا- اس جہازی سائز واش بیسن کو واش روم کے عین پیچھے لگایا اور پانی کے اخراج کا فول پروف نظام بھی بنا دیا-
کچن کے نصف کاؤنٹر پہ ٹائل لگی تھی- نصف حصہ انتہائی بدنما اور گندا تھا- اس پہ کافی غور و خوض کیا- بالاخر اس حصّے کو اچھی طرح صاف کر کے سیمنٹ کی تہہ لگا کر برابر کیا- لاثانی کی ایک شیٹ بوہری بازار سے خریدی- گھر لا کر پیمائش کر کے اس بدنما جگہ پہ بچھا دی- اس پہ پلاسٹک کی ایک دستر خوانی شیٹ بھی چڑھا دی تا کہ پانی سے حفاظت رہے- چھ سو روپے صرف رکشے کا کرایہ بنا-
کچن کی کھڑکی سے باہر گارڈن کا منظر بہت بھلا نظر آتا ہے مگر پرانی جالی اس منظر کو دھندلا رہی تھی- اسے اتار کر نئی سبز جالی لگائی تا کہ خزاں میں بھی خاتونِ خانہ کو بہار کا منظر دکھائی دے-
ایگزاسٹ فین وائرنگ نہ ہونے کے سبب غیر فعال تھا- نئی وائرنگ کر کے چالو کیا- مائکرویو اوون کےلیے ساکٹ مہیا نہ تھی، لگا دی- چولہے کو اسکواچ برائٹ اور جالی سے دھویا ، اس کے گیس پائپ پہ جمی صدیوں کی میل اتاری- سنک دھویا اور اس کا ڈرین پائپ امری پیپر سے رگڑ رگڑ کر صاف کیا-
چھت والے پنکھے چلتے تھے مگر کارکردگی حکومت جیسی تھی- پنکھے اتارے ، پھر ان کے پر اتارے- اسکواچ برائٹ اور ریگمال سے کھرچ کھرچ کے زنگ اور پرانا رنگ اتارا- سپرے پینٹ مار کے چمکا دیے- کیپسٹر بدلائے- اڑھائی فٹ کے آہنی پائپ نئے خرید کر ان کے عقب میں لگائے- دوبارہ نصب کیے- اب آندھی کی طرح چلتے ہیں-
ٹائلٹ اور واش روم دونوں میں زنگ آلود کنڈیاں لگی تھیں جو اکثر پھنستی تھیں- خطرہ تھا کہ زوجہ نیک فطرت کہیں اندر نہ پھنس جائیں- کنڈیاں اتار کر کوڑے دان میں پھنکیں- بازار سے اسٹیل کی ارل خریدیں ، اندر باہر نصب کیں ، اب ٹھکا ٹھک چلتی ہیں-
بجلی کے ہر بورڈ میں ایک آدھ بٹن سرے سے غائب تھا- خطرہ تھا کہ خاتون خانہ کو بجلی کا جھٹکا نہ لگے- مطلوبہ بٹن کی تلاش میں بوہری بازار سے لے کر پرفیوم چوک تک ہر مشہور دوکان کا در کھٹکایا مگر ویسا بٹن کہیں نہ پایا- اللہ کی ذات نے اس بھاگ دوڑ کو قبول فرمایا اور گھر کے اسٹور سے ہی نئے بٹن مل گئے- فٹافٹ نصب کیے- اب محفوظ ہیں-
گھر بساؤ پروجیکٹ کے دوران 15 یوم فیس بک سے لاتعلق رہا ، تین رکشہ ٹرالیاں کچرا مکان سے باہر نکلوایا- دفتر سے جتنا وقت میسر آیا ، گھر میں کھپایا- روزانہ صرف چھ گھنٹے نیند کی- وقت بچانے کو برگر اور شوارمے پہ گزارا کیا- دو نئے جانگیے اور تین بنیانیں ادھڑ کر بیکار ہوئیں، داہنی ٹانگ کا پٹھا چڑھ گیا ، داڑھی سفید ہو گئی تب جا کر گھر تیّار ہوا-
مائی لارڈ ! ڈسٹمپر ہو چکا ، البتہ دروازوں پہ پینٹ ہنوز باقی ہے- زندگی رہی تو واپسی پہ خود ہی کروں گا-
یہ سب بتانے کا مقصد ہرگز نہیں کہ بچیوں کے رشتے اور ووٹ دیتے وقت ہینڈسم کی بجائے ہرفن مولا تلاش کرو- یہ تو میاں صاب کا وہ بیان ہے جو گھر پہنچتے ہی بی بی حضور کے سامنے دیا ہے- زنگر برگر تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے بے شمار سوالات کا سامنا ہے- ہمارے پاس کوئی جواب نہیں بجز اس کے کہ میاں صاحب بے قصور ہیں- پہلے حالات کے ہاتھوں مجبور تھے ، اب دل کے ہاتھوں مجبور ہیں-

0 Comments