جنک فوڈ
کوئی دو ہفتوں سے اس فقیر کا معمول تھا کہ نصف شب سے کچھ پہلے ، نانِ جویں کی طلب ہوتی تو فائن برگر کے ہاں چلا جاتا-
وہ بھٹیارہ کبھی چکن برگر ، کبھی زنگر برگر ، کبھی انڈا برگر ، کبھی بیف برگر تو کبھی شوارما ہمراہ قتلے سرخ آلو کے اور آبِ سوڈا حاضر کرتا اور درویش اس طعام سے لطف اندوز ہو کر کلمہ شکر کا پڑھتا-
ایک شب اس فقیر نے دسترخوان سجایا ہی تھا کہ ہاتف پہ صدا آئی- زوجہِ مستور برخط تھیں- ہمیشہ کی طرح دریافت فرمایا کہ فی الوقت کیا مشغولیت ہے؟
تیرہ بختی ، مونہہ سے سچ نکل گیا کہ کچھ خاص نہیں- چھڑے پن کے آخری ایام ہیں- دلِ بے تاب کو سیون اپ اور بیف کباب سے بہلاتا ہوں-
اس پہ اس شریفن نے شور کیا کہ آئے ہائے اس عمر میں اتنا ناموافق کھانا؟ پہلے ہی اختلاجِ قلب کے مریض ہو- اپنا نہیں تو عیال کا خیال ہی کر لو- دنیا کے تمام اطباء اس بات پہ متفق ہیں کہ جنک فوڈ بُری بلا ہے-
فقیر نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، پھر کیا تناول کیا جاوے ؟ کیلے؟
فرمایا ، کیلا بھی موافق ہے مگر فاسٹ فوڈ سے تو بالکل ہی پرہیز کرو- کسی ہوٹل پہ جا کے داش ماش کھا لیا کرو ، انڈا ٹماٹر بنوا لیا کرو- بندے کو سادہ و معقول غذا کھانی چاہیے-
فقیر نے یہ بات پلے باندھ لی اور اگلی شام کیفے غریب نواز پہ جا بیٹھا- بیضہِ مرغ مع طماطم یعنی انڈا ٹماٹر کی گزارش بھیجی اور ہمراہ نان قندھاری کے تناول کیا- پھر جینا لوازمہ کر کے واپس لوٹا تو غریب خانے میں پاؤں دھرتے ہی پہلے پاؤں کی تلیاں جلیں، پھر سینہ جلا ، پھر پورا جسم جلنے لگا- گھڑوں پانی پی لیا مگر پیاس نہ بجھی- پوری شب کروٹیں لیتے گزری- حالانکہ جنک فوڈ کھا کے معدے پہ کوئی گرانی نہ ہوتی تھی اور فقیر بڑی ہی مست نیند کیا کرتا تھا-
فائدہ:
فائدے میں شیخ الاوکاڑہ لکھتے ہیں کہ برگر شرگر کھا لیا کرو- اس کا کوئی نقصان نہیں بلکہ زود ہضم ہے اور فائدہ مند چیز ہے- زنانیاں اس لیے منع کرتی ہیں کہ برگر کی لت پڑ گئی تو ان کے شوربے والے سالن کو کون پوچھے گا اور ڈاکٹرز اس لیے منع کرتے ہیں کہ لوگ تندرست رہے تو ان کے پاس کون آئے گا-
بسم اللہ کرو جی

0 Comments