بجلی جہاز -- ظفرجی
واٹرنا ، انگلینڈ کا ایک دُخانی بحری جہاز تھا جو نومبر سن 1886ء کو کراچی کی بندرگاہ کیماڑی پہ لنگر انداز ہوا-
یہ جہاز اس دور کی جدید ترین ٹیکنالوجی "بِجلی" سے آراستہ تھا اور ساحل پہ لگتے ہی اپنے منفرد فانوسوں کی وجہ سے مشہور ہو گیا- 1400 سواریوں کی گنجائش والے اس جہاز کا شپنگ ایجنٹ "حاجی قاسم آگبوٹ والا" تھا- چنانچہ لوگوں نے جہاز کا نام ہی "حاجی قاسم کی بجلی" رکھ دیا-
گیس بتّی کا دور تھا- لوگ چمکتے دمکتے بلب دیکھنے ساحل پہ امڈ آئے- 25000 ہارس پاور کے انجن اور آٹھ پروپلرز والا یہ جہاز 600 میٹر طویل اور 150فٹ چوڑا تھا اور سیکڑوں بلبوں نے اسے بقعہِ نور بنا رکھا تھا-
سن 1883ء سے 85ء تک بمبئی، سندھ اور کچھ دیگر علاقے ہیضہ، طاعون اور قحط کی لپیٹ میں رہے تھے- اِن دنوں بیماری چھٹ رہی تھی اور بے شمار شادیاں و دیگر کام جو ایک عرصہ سے ملتوی تھے ، بحال ہو رہے تھے- لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس دیوہیکل جہاز پہ سوار ہونے کو پر تولنے لگی ، جو کراچی تا گجرات اور بمبئی جانے کےلیے بُوق بجا رہا تھا-
جہاز میں 18 باراتیں سوار ہوئیں جو سب کی سب راجکماروں کی تھیں- ان میں سے کچھ کاٹھیاواڑ گجرات اور کچھ بمبئی جا رہی تھیں- 400 طلباء بھی سوار ہوئے جو میٹرک کا امتحان دینے بمبئی جا رہے تھے، جس کا کراچی سے ان دنوں تعلیمی الحاق تھا-
جمعرات 5 نومبر 1886ء کی وہ صبح بڑی پررونق تھی جب 1400 مسافروں کو لے کر "واٹرنا" کراچی کی بندرگاہ سے روانہ ہوا-
جہاز کی پہلی منزل گجرات کی بندرگاہ " پور بندر" تھی- آٹھ گھنٹے کی مسافت تمام ہوئی تو سمندر برہم ہوا اور طوفانی ہواؤں نے جہاز کو آ لیا-
پورٹ پر تعینات جہازراں کمپنی کے ایجنٹ نے جہاز کے کپتان کو وائرلیس پیغام بھجوایا کہ ساحلی طوفان کی وجہ سے پوربندر کی بجائے بمبئی کی طرف نکل جاؤ-
کپتان نے ایجنٹ کی ہدایات کو نظرانداز کیا اور پور بندر سے 80 کلومیٹر آگے مانگرول کے ساحل کی طرف مڑنے کا ارادہ کیا-
سمندر کی تیز و تند لہریں جہاز کو تنکے کی طرح پٹخنے لگیں- گیت شادمانی کے چیخ و پکار میں بدل گئے- ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا- کوئی زخموں سے کراہ رہا تھا ، کوئی مسلس الٹیاں کیے جا رہا تھا اور کوئی سیدھا سمندر میں جا پڑا تھا- غرض کہ قیامتِ صغری کا منظر تھا-
آخر فرشتہِ اجل نے نقارہ موت کا بجایا اور زیست کی تکلیف سے نفوس کو آزاد کر دیا- اس دور کا جدید ترین جہاز ، جو کسی پہاڑ کی مثل تھا ، بری طرح لڑکھڑایا اور الٹ کر کسی کنکر کی طرح سمندر کی تہہ میں جا بیٹھا-
پوربندر تک اس جہاز کا اتاپتا ملتا ہے، آگے کی کچھ خبر نہیں- نہ ہی وہ مانگرول پہنچا نہ بمبئی ، نہ ہی اس کی کوئی خبر آج تک موصول ہوئی- سر پر سہرا سجائے اٹھارہ راجکمار اور خوشیوں سے سرشار سیکڑوں باراتی کہاں گئے؟ کچھ پتا نہیں- وہ پھول سے بچے کیا ہوئے جو دسویں کا امتحان دینے جا رہے تھے؟ کوئی نہیں جانتا-
اس جہاز کی باقیات یا ڈھانچہ بھی آج تک نہ مل سکا- سمندری حادثات کا ریکارڈ رکھنے والی ویب سائٹ "میری ٹائم ڈیزاسٹر" میں اس کا کوئی ذکر نہیں- برد شدہ سفینوں کا عالمی ریکارڈ رکھنے والی "شپ ریک" بھی اس کے تذکرے سے خالی ہے اور گزشتہ دو سو برس کے برطانوی سفینوں میں بھی اس کا نام کہیں نظر نہیں آتا- کراچی کی تاریخی کتب میں البتہ اس کا احوال مکمل جزیات کے ساتھ محفوظ ہے-
خدا جانے وہ جہاز تھا یا کوئی آسیبی سفینہ ، فرشتے موت کے جسے چلا رہے تھے- بعد روایات کے مطابق کراچی اور گجرات کے بیچ اب بھی اس "بجلی جہاز" کا بھوت مچھیروں کو پریشان کرتا ہے-
اس المناک حادثے نے سندھ ، کَچھ، کاٹھیاواڑ اور بمبئی کے سیکڑوں چراغ بجھا دیے- ہزاروں خاندان سوگوار ہوئے اور ایک مدت تک ان کے زخموں سے لہو رستا رہا- وہ آج بھی اپنے لوک گیتوں میں اس "بجلی جہاز" کو یاد کرتے ہیں جو بلب جلاتا ہوا آیا ، خوشیوں کے شادیانے بجاتا ہوا نکلا اور موت کے دہانے میں جا کر اتر گیا-
ایک گجراتی لوک گیت کا ترجمہ:
حاجی قاسم تیری بجلی
بیری ہوئی
بیچ سمندر بیری ہوئی
کتنی حسیں صورتیں
تہہ آب سو گئیں
کتنی خوشیاں غم میں پنہاں ہو گئیں
کتنی آشاؤں کے بجھ گئے دیپ
حاجی قاسم تیری بجلی
بیری ہوئی
بیچ سمندر بیری ہوئی
مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب /سائٹس کی مدد حاصل کی گئی:
"اک دشت میں اک شہر تھا"
مصنف: اقبال-اے-رحمن
کراچی کی کہانی تاریخ کی زبانی‘‘ مصنف: عبدالغفور کھتری
وکیپیڈیا انسائیکلوپیڈیا
شپ ریک ویب سائٹ
میری ٹائم ڈیزاسٹر ویب سائٹ

0 Comments