Ticker

6/recent/ticker-posts

برباد دنیا کی سیر -- ظفرجی


 برباد دنیا کی سیر -- ظفرجی





اینٹیں چور لے گئے ، سونا مور لے گئے- باقی جو کچھ بچا، عجائب گھر میں "محفوظ" ہے-

کسووال سے اوکاڑہ جاتے ہوئے ہڑپہ بائی پاس پہ مطلع اچانک ابر آلود ہوا تو ہم باپ بیٹا عجائب گھر کی طرف مڑ گئے- اس سے پہلے میں نے 1986ء میں ہمراہ کچھ طالب علم ساتھیوں کے یہاں کی سیر کی تھی-

صبح کے ساڑھے آٹھ بجے تھے اور ہم یہاں آنے والے سب سے پہلے زائر تھے- پارکنگ اور عجائب گھر کی مشترکہ فیس چالیس روہے تھی ، ہم نے پچاس دیے اور ہیلمٹ بھی یہاں محفوظ کروا لیا- 

ہڑپہ کی تاریخ 5000 سے لے کر 2000 قبل مسیح کی ہے- ایک حالیہ تحقیق میں تو اسے 9000 قبل مسیح کی تہذیب بھی کہا گیا ہے-

یہ تہذیب وادیِ سندھ کے شہروں موہنجو دڑو اور کوٹ دیجی سے لے کر انڈیا میں گھگر ہاکڑا دریا کی وادی میں واقع بِھڑانا، کالی بنگن اور حصار تک پھیلی ہوئی تھی-

یہ لوگ اپنے زمانے کی ترقی یافتہ اور جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس تھے- زراعت، شہری منصوبہ بندی، تجارت، برتن سازی اور مجسمہ سازی کے ماہر تھے نیز تجارت کے ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے میسوپوٹیمیا (موجودہ عراق ، ایران ، ترکی ) اور وسطی ایشیا سے بھی منسلک تھے-

یہ لوگ پختہ گھر بناتے تھے ، بس اینٹ کا حجم موجودہ زمانے کی اینٹ سے تھوڑا بڑا ہے- 

عجائب گھر کا باوردی نگران اگرچہ عمر رسیدہ تھا مگر چاک و چوبند اور فرض شناس- گائیڈ کا فریضہ اس نے بخوبی نبھایا- الماریوں میں دھری ایک ایک چیز کا مکمل تعارف کرایا- مٹّی کی ایک بڑے برتن کی طرف اشارہ کر کے اس نے بتلایا کہ اس قسم کے کئی برتنوں میں سے انسانی ہڈیاں ملی ہیں-

اس برتن پہ کچھ نقش و نگار بنے تھے اور اندر رکھی انسانی ہڈیاں ہنوز سلامت تھیں-

گائیڈ کے مطابق یہ لوگ مُردوں کو دفنانے کی بجائے چیل کوّوں کی نذر کرتے تھے- بچی کھچی ہڈیوں کو بڑے بڑے برتنوں میں محفوظ کر لیا جاتا تھا- خدا جانے یہ لوگ کس مذہب کے پیروکار تھے مگر توحید پرست ہرگز نہ تھے- حیات بعد از موت البتہ ان کے عقیدے کا حصّہ ضرور تھی-

گائیڈ نے بتایا کہ کئی پختہ قبریں بھی دریافت ہوئی ہیں جن میں مردے کے ساتھ کھانے پینے کے برتن وغیرہ بھی رکھے گئے تھے- اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید یہاں مختلف العقیدہ لوگ رہتے تھے-

عجائب گھر میں دو سالم انسانی ڈھانچے بھی رکھے ہیں جن میں ایک عورت کا ہے دوسرا مرد کا-

آرکیاجسٹوں کی ہر بات پہ یقین کرنا مشکل ہے- کیا آپ اس بات کا تصوّر کر  سکتے ہیں کہ سات ہزار سال  پرانی مٹّی کی ایک چاٹی مٹی کے ٹیلوں میں دفن رہی اور نہ صرف نقش و نگار  اس کے تازہ رہے بلکہ اندر رکھی انسانی ہڈیوں کی پور پور بھی سلامت ہے ؟ جب سب مان رہے ہیں تو چلو ہم بھی مان لیتے ہیں-

وادیِ سندھ کی تہذیب میں ہڑپہ سب سے پہلے دریافت ہوا-1921ء میں یہاں پہلی کھدائی کا کام رائے بہادر دایا رام سہانی نے کیا جو ماہر آثار قدیمہ اور پنجاب کالج کے گریجویٹ تھے- ان کا تعلق بھیرہ (شاہ پور) سے تھا-

اس کے بعد مختلف ادوار میں یہ کام وقفے وقفے سے جاری رہا جس کی تفصیل میوزیم میں  لگے بورڈز پر آویزاں ہے- ہاں جہاں 1886ء لکھا ہے ، اسے 1986ء پڑھا جائے- آج تک کسی میوزیم سٹاف کی نظر اس غلطی پہ نہیں پڑی-

1986ء کے بعد آثارِ قدیمہ کا کام جدید طریقوں پہ استوار ہوا ہے- تب سے آج تلک محکمہ آثارِ قدیمہ کی زیرنگرانی ایک مغربی ٹیم یہاں سال بہ سال کھدائیاں اور تحقیقات کرتی آئی ہے- آج بھی کئی ٹیلے اپنے اندر قدیم تہذیب کی امانتیں چھپائے کھدائی کے منتظر کھڑے ہیں-

1921ء سے پہلے یہاں کیا تھا؟

جھار جھنکار اورکچھ ٹیلے،  جہاں سے لوگ اینٹیں نکال نکال کر اپنے کچّے گھر پکّے کیا کرتے تھے- واہ کیا نصیب پایا ہماری تہذیب نے جو پکّی اینٹوں کے حصول کےلیے بھی پانچ ہزار سالہ پرانی تہذیب سے رجوع کرتی رہی-

تالیاں !!

کیا یہاں سے سونا بھی برامد ہوا ؟

اس سوال پر گائیڈ خاموش رہا- ہم نے بھی تکرار جاری رکھی کہ تانبے کے برتنوں میں کھانا پینے والی لڑکیاں ، کیا مٹّی کے زیورات پہنا کرتی تھیں؟ عورت کے مرنے پہ اس کے ساتھ زیور تو ضرور دفن ہوا ہو گا-

آخر وہ گائیڈ ہمیں ایک مضبوط الماری کی طرف لے گیا جہاں شیشے کے پیچھے ایک چھوٹا سا نیکلس سجا تھا- اس میں سات پتھر کے منکے تھے اور دو سونے کے- گائیڈ نے بڑی رازداری سے بتایا کہ یہ سونا بھی موجودہ حکومت نے بازیاب کیا ہے ورنہ اس سے پہلے یہاں کچھ نہ تھا-

ہم نے پوچھا ، حکومت نے یا نیب نے؟ 

اس پر وہ ایک بار پھر خاموش ہو گیا-

یہاں سے مٹّی اور پتّھر کے ساتھ ساتھ پیتل کے برتن بھی دریافت ہوئے ہیں- پتّھر کے اوزار بھی نظر آتے ہیں اور ہاتھی دانت کے زیورات بھی- ایک کثیر تعداد ان مورتیوں کی ہے جنہیں یہ لوگ خدا سمجھ کر پوجتے تھے-

کیا اس تہذیب پہ کوئی پیغمبر بھی اترا ؟

 آدم علیہ سلام سے لے کر آج تلک دنیا کبھی یکتا پرستوں سے خالی نہیں رہی- ہڑپہ کے کسی کنارے پہ کوئی نہ کوئی درویش ایسا ضرور ہو گا جو خاص رب تعالی کو اپنا مشکل کشا ، حاجت روا ، داتا ، غوث اور غریب نواز کہتا ہو گا- ہو سکتا ہے اس شخص نے یہاں کے باسیوں کو یکتا پرستی کی تبلیغ بھی کی ہو اور انہوں نے اسے وہابی کہ کر  بھگا دیا ہو-

کھنڈرات کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ شہر میں گرم حمام بھی تھے اور نکاسیِ آب کےلیے پختہ نالیاں بھی- یہ انتظام بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے- عین ممکن ہے کہ میاں صاحب نے یہیں سے تحریک لے کر ملک بھر میں پکی نالیاں بنوائیں ہوں- 

یہ تہذیب تباہ کیسے ہوئی؟

آج سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سال قبل اس تہذیب کا مکمل خاتمہ ہو گیا- ان کے لکھے قیمتی ارشادات بھی پڑھنے لائق نہیں رہے- زراعت تباہ ہو گئی اور تاحال تباہ ہے-

تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ لوگ آریاؤں کے ہاتھوں برد ہوئے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کسی وبائی مرض نے ان کی جڑ کاٹ کے رکھ دی- یہ گمان بھی کیا جاتا ہے کہ دریاؤں کا رخ بدلنے سے قحط ان پہ مسلط ہوا اور ایک جدید خیال یہ بھی ہے کہ مون سون کے موسمی نظام میں تبدیلی اس تہذیب کے یک لخت انہدام کا باعث بنی-

میرا ذاتی خیال یہ ہے تہذیب کبھی تباہ نہیں ہوتی ، صرف رنگ بدلتی ہے- زبان بھی وقت کے ساتھ کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے- یہ لوگ آج بھی مختلف اقوام کی صورت دنیا میں موجود ہوں گے- ہاں بستیاں ان کی ضرور برباد ہوئیں اور یہ بربادی کسی عذابِ الہی کا ہی نتیجہ ہو سکتی ہے- 

اَلَمْ يَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَـهُـمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّـهُـمْ اِلَيْـهِـمْ لَا يَرْجِعُوْنَ (31) ↖

کیا یہ نہیں دیکھ چکے کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا وہ ان کے پاس لوٹ کر نہیں آئے۔

وَاِنْ كُلٌّ لَّمَّا جَـمِيْـعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُوْنَ (32) ↖

اور سب کے سب ہمارے پاس حاضر ہیں۔

(ترجمہ سورہ یسین)

Post a Comment

0 Comments